Showing posts with label International News. Show all posts
Showing posts with label International News. Show all posts

"We are going to destroy Israel" Commander of Iran’s army said

According to the state-controlled press, Salehi (commander of Iran’s army) said,

"Israel only barks. No matter how much weapons are given to it, we are going to destroy them. We promise this task will be done."


 Salehi expressed pride in Iran’s support for terrorist groups such as Hamas and Hezbollah, and acknowledged that Iran has been directly responsible for attacks on Israel:

“We are glad that we are in the forefront of executing supreme leader’s order to destroy the Zionist regime. They have been hit by those supported by us [Iran] even though they have not confronted us directly; if they confront us directly they will be destroyed.”

Hassan Firouzabadi, chief of staff of the Iranian Armed Forces, was quoted as saying,
“The backward Republicans want to go back to the era of the mad Bush. Bush did all he could to invade Iran but was not successful. If Republicans want to take Bush’s path, they cannot start a war with Iran, war will not benefit them, what Republicans say are just empty words."

President Obama "founded" the Islamic State in Iraq and Syria (ISIS)


Donald Trump said Wednesday that President Obama "founded" the Islamic State in Iraq and Syria (ISIS).
"ISIS is honoring President Obama," he said during a rally in Fort Lauderdale, Fla.  "He's the founder of ISIS. He founded ISIS."
"I would say the co-founder would be 'Crooked' Hillary Clinton," Trump added of Obama's former secretary of State and his Democratic rival.
Trump criticized Obama's decision to withdraw U.S. military forces from the Middle East and leaving behind a void ISIS could fill.
"We should never have gotten out the way we got out," he said. "We unleashed terrible fury all over the Middle East."
"Instead of allowing some small forces behind to maybe, just maybe, keep it under control, we pulled it out," the GOP's presidential nominee added.
"Then Obama came in, and normally you want to clean up and he made a bigger mess. We're not respected. We're laughed at all over the world."

امریکا نے دن کی روشنی میں غائب ہونے والے ڈرون پر کام شروع کردیا

واشنگٹن: امریکا نے ایک خفیہ ڈرون پر کام شروع کردیا جو رات کو اپنا مشن انجام دے گا اور دن کی روشنی میں سورج کی حدت سے گھل کر غائب ہوجائے گا۔


امریکی ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی (ڈارپا) نے ایک ایسے ڈرون پر کام شروع کردیا ہے جو رات کی تاریکی میں خاموشی سے  ضروری سامان مثلاً فوجیوں کےلیے طبی امداد گرانے کے 4 گھنٹے بعد خود ختم ہوجائے گا یا صبح کی روشنی میں 30 منٹ کے بعد غائب ہوجائے گا۔ انہیں ویمپائر ڈرون کا نام دیا جارہا ہے کیونکہ قصے کہانیوں کے مطابق ویمپائر بھی رات کو ہی نکلتے تھے۔
ان باؤنڈ، کنٹرولڈ، ایئر ریلیزایبل، ان ریکور ایبل (اکارس) نامی اس ڈرون کے ڈیزائن اور تیاری کے لیے ڈارپا نے مقابلے کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت وہ غائب ہونے والے ہوائی جہاز بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کا کام صرف 3 پونڈ تک ضروری سامان گرانا ہوگا لیکن یہ ضروری ہے کہ سامان کو مقررہ ہدف کے 10 میٹر کے دائرے میں گرایا جائے۔  ڈارپا کی کڑی شرط ہے کہ یہ ڈرون کو مشن مکمل ہونے کے بعد جلد از جلد دھویں کی طرح غائب ہوجائے اور اس کی لمبائی 10 فٹ سے زیادہ نہ ہو۔
ڈارپا کے مطابق اس ڈرون کے 2 مقصد ہیں جن میں اول یہ کہ دشوار گزار علاقوں میں فوجیوں تک ضروری سامان پہنچایا جائے اور دوم کہ دشمن جہاز کا سراغ نہ پاسکے۔  اس کے لیے ڈارپا بعض ایسے پالیمر پر کام کررہا ہے جو ٹھوس سے فوراً گیس بن جائیں گے اور اس کے ذرات بھی بہت باریک ہوں گے۔ اس طرح اس کی تیاری میں زیادہ توجہ نت نئے مادوں (مٹیریلز) پر دی جارہی ہے۔

ضدی بچوں کو منا کر ان سے کام کرانے کے نسخے



لندن: یوں تو بچے عموماً شرارتی ہوتے ہیں لیکن بعض بچے بے حد ضدی بھی ہوتے ہیں جن سے کوئی کام کرانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوتا ہے تاہم امریکی نیورولینگویسٹک اور ہپناٹزم کی ماہر خاتون کا کہنا ہےکہ اگر بچے کہنا نہ مانتے ہوں تو ان سے الفاظ تبدیل کرکے اپنی مرضی سے کام لیا جاسکتا ہے۔
ہارلے کے مطابق الفاظ کا انداز بچوں کو فرمانبردار بناسکتا ہے اور اس کے ذریعے وہ کوئی بھی کام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی نئی کتاب ’’ورڈز دیٹ ورکس‘‘ میں اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے اور وہ بچوں کے رویوں سے پریشان والدین کے لیے یہ تجاویز پیش کرتی ہیں جنہیں آزمانے میں کوئی ہرج نہیں۔ سائنسی پیمانے پر ثابت یہ الفاظ بچوں پر اثر کرتے ہیں مثلاً ’ مت کرو‘ کی جگہ ’ شکریہ‘ کہہ کر بچوں کو کوئی حکم دیا جائے تو اس کا فوری اثر ہوگا۔
’’ناں‘‘ کی جگہ ’’ہاں‘‘ منفی کی جگہ مثبت:
’’ اپنا کمرہ گندا مت کرو‘‘ اور یہ ’’نہ کرو اور وہ نہ کرو‘‘ کی بجائے مثبت جملے استعمال کیے جائیں جو بچوں پر جادو کی طرح اثر کرتے ہیں کیونکہ انکاری جملے بچوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں اس لیے اس کی بجائے بچوں سے کہیں کہ ،چلو کمرہ صاف کرتے ہیں، جوتے اسٹینڈ پر رکھتے ہیں اور کھلونے الماری میں۔‘ یہ جملے بچے پر مثبت اثر ڈالیں گے اور وہ عمل کرنے لگیں گے۔
بچوں کے بہت سے انتخابات پیش کیجئے:
روزانہ مائیں بچوں کو یہ کہتی ہیں، ’ جلدی کرو اسکول یونیفارم پہنو،‘ اور یہ جملہ بچوں پر اثر نہیں کرتا اس کی جگہ بچوں کے سامنے بہت سے انتخاب پیش کریں، مثلاً آج اسکول میں کھانے کے لیے کیا لے جاؤ گے یا نیا یونیفارم پہنوگے یا پرانا والا۔ اور بچوں سے اس کو سوالیہ انداز میں پیش کریں اس طرح کے جملے بچوں پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔
اسی طرح بچوں کو ہوم ورک کرانے کے لیے بھی چوائس پیش کریں، مثلاً کیا تم پہلے اردو کا کام کروگے یا اپنے ہفتہ وار پروجیکٹ کرنا چاہوگے۔ ان الفاظ سے بچے ذہنی طور پر کام کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اسی طرح کھانا کھلانے کے لیے بچوں سے معلوم کرنے کی بجائے ان کے سامنے بہت سے کھانوں کے آپشن رکھیں۔
’’ کب‘‘ کا استعمال:
ماہرین کے مطابق ’’کب‘‘ کا لفظ اگر درست طور پر استعمال کیا جائے تو وہ ایک اہم قوت رکھتا ہے۔ والدین بچوں کے لیے اس لفظ کو درست جگہ استعمال کرکے اہم کام لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ،تم اپنا ہوم ورک کب ختم کروگے، ہمیں کھانا کھانا ہے یا ، یا جب تم یہ کام کرلوگے تو ہم باہر چکر لگانے چلیں گے۔ اس جملے میں بچے کے لیے ایک کام ہے اور ایک پرکشش تفریح۔ اچھے سیلزمین بھی ان ہی جملوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کو اسکول کا کام کرواتے وقت یہ کہیں کہ ’ جب تم سبق یاد کرلوگے تو تمہیں خود ہی احساس ہوجائے گا کہ یہ کتنا آسان کام تھا۔‘
والدین اور بچوں کے درمیان زبان کا رشتہ:
درست زبان استعمال کرکے اپنے اور بچے کے درمیان سمجھ بوجھ کا ایک مضبوط رشتہ بنائیں۔ بچوں سے اس طرح کے جادوئی جملے کہیں کہ’’ میں تمہاری طرح یہ سمجھ سکتا یا سکتی ہوں کہ کتنے سارے کام ہیں‘‘ یا ’’ تم میرے جیسے ہواور یہ جان سکتے ہوکہ ہوم ورک کرنا کتنا آسان ہے۔‘‘ میرے جیسا یا تمہارے جیسا لفظ بچے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور وہ کام پر آمادہ ہوتا ہے۔
’شکریہ کا لفظ پہلے ادا کریں نہ کہ بعد میں :
بچے اپنے والدین کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس کی پذیرائی بھی چاہتے ہیں۔ اس لیے اگلی مرتبہ بچوں کو ہاتھ دھونے، ٹی وی بند کرنے یا پانی دینے سے قبل ’شکریہ‘ کا لفظ کہیں جس سے وہ عمل کی جانب راغب ہوتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔
ہر کام کی وجہ بیان کریں:
بچے تجسس رکھتے ہیں اور ہرکام کی وضاحت چاہتے ہیں اس لیے ان میں ایک حد تک کاموں کی سمجھ پیدا کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے کوئی بھی کام کروانے سے قبل بچوں کو اس کی مختصر وجہ بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً اس ماہ کپڑے نہیں خرید سکتے کیونکہ ایک بڑا خرچ سامنے آگیا ہے۔ اس سے بچہ مطمئن ہوجاتا ہے۔
’سنو‘ اور ’اگرسوچو‘ جیسے جملے:
بچوں کو کام کی تحریک دینے والے طاقتور الفاظ میں سے 2 تو الفاظ ہیں ’سنو‘ اور ’ ذرا سوچو تو‘۔ مثلاً سنو ہمیں یہ کام کرنا ہے کیونکہ نہ ہونے کی صورت میں یہ نقصان ہوسکتا ہے یا ’ اگر سوچو توکہ ہوم ورک کرلوگے تو کتنا اچھا ہوگا۔‘ ایسے جملے بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس طرح آپ ان سے کوئی بھی کام کرواسکتےہیں۔
بچوں کا شکایتی لہجہ:
بہت سے بچے والدین سے ہر معاملے کی شکایت کرتے ہیں اس کا ایک حل یہ ہے کہ آپ ان کی وہی شکایت ان پر دوبارہ لوٹا دیں لیکن اس میں اس کا حل ہو اور وہ بھی بہت مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔ اگر بچہ کہے کہ گرمی لگ رہی ہے تو آپ کہیے، ’ اوہ! تو آپ کو قدرے ٹھنڈ چاہیے تو اس کے لیے کھڑکی کھول دیتے ہیں یا اپنی جیکٹ اتار دو۔ ‘ آپ دیکھیں کہ اس طرح بار بار شکایت کرنے والا بچہ مطمئن ہوکر خاموش ہوجائے گا۔

ریاست کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوئی، مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ

سری نگر: جموں وکشمیر ہائیکورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں کہا ہے کہ دفعہ 370 دستور کا مستقل حصہ بن چکی ہے جس کو منسوخ کیا جاسکتاہے نہ کوئی ترمیم کی جاسکتی ہے، جموں وکشمیر ہائیکورٹ کے جسٹس حسنین مسعودی اورجسٹس راج کو توال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنا فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ جموں وکشمیرکی آئین ساز اسمبلی نے 1957ء میں تحلیل ہونے سے قبل دفعہ 370 میں ترمیم یااسے منسوخ کرنے کی سفارش نہیں کی جسکی وجہ سے اس نے آئین میں ایک مستقل مقام حاصل کر لیا اور اس میں اب نہ کوئی ترمیم کی جاسکتی ہے اورنہ ہی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔


فیصلے میں کہاگیاکہ دیگر خود مختار ریاستوں نے بھارت کیساتھ دستاویز الحاق پر دستخط کئے تھے لیکن جموں و کشمیر ملک میں ضم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس نے ہندوستان کیساتھ الحاق کے وقت اپنی محدود خودمختاری برقرار رکھی تھی۔
واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن ہے،مقبوضہ جموں وکشمیرکے اس تاریخی فیصلے سے بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی) اورراشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس)کے موقف کوزوردارجھٹکا لگاہے،دفعہ 35 اے کی آئینی حیثیت کوآرایس ایس سے وابستہ ایک تھنک ٹینک’جے کے اسٹڈی سینٹر‘نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیاہے۔