Showing posts with label Technology and Health News. Show all posts
Showing posts with label Technology and Health News. Show all posts

App Store to reach 5 million apps by 2020

App Store to reach 5 million apps by 2020, with games leading the way


The Apple App Store shows no signs of slowing down, despite the fact that people seem to limit the number of apps they use regularly to just a small handful. But developers keep building, so the apps keep coming. According to new analysis out this morning from app intelligence firm Sensor Tower, the App Store is expected to more than double its size over the next four years, reaching 5 million apps by the year 2020.
That would make its catalog 73 percent larger than it’s expected to be by the end of 2016 (or 2.93 million), the firm says.
Sensor Tower based its projections on historical data from the App Store from its 2008 launch through the present – specifically, the number of worldwide active apps at the end of each period, not the total number of those released.

مریض پر 24 گھنٹے نظر رکھنے والے کم خرچ اسٹیکر تیار

ٹیکساس: ماہرین نے ڈاک ٹکٹ جتنے برقی اسٹیکر تیار کیے ہیں جو دل کے مانیٹر کی طرح 24 گھنٹے اور سات دن مریضوں کی صحت پر نظر رکھ سکیں گے۔


یونیورسٹی آف ٹیکساس کے کاک ریل اسکول آف انجینیئرنگ کے ماہرین کے مطابق صرف 100 روپے میں ایسے اسٹیکر تیار کرنا ممکن ہے جسے جسم پر چپکا کر دل کی دھڑکن، دماغی سرگرمی، درجہ حرارت، جسم میں پانی کی موجودگی اور دیگر اہم معلومات کا مسلسل ڈیٹا لیا جاسکے گا۔ ایک نئے طریقے کے ذریعے ان اسٹیکروں کو اب دنوں کی بجائے صرف چند منٹوں میں تیار کیا جاسکتا ہے تاکہ انہیں کثیر تعداد میں تیار کرکے مریضوں پر چسپاں کیا جاسکے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت میڈیکل آلات مثلاً ای سی جی اور ای کے جی کے مقابلے میں یہ اسٹیکر ذیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک مریض کے دل پر اور دیگر جگہوں پر ایسے اسٹیکر لگا کر24 گھنٹے ای سی جی حاصل کی جاسکے گی اور اسی طرح دماغی کیفیت کا جائزہ بھی لیا جاسکے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل انہیں بنانا اور طویل، مہنگا اور اکتادینے والا کام تھا۔ لیکن جرنل آف ایڈوانسڈ مٹیریلز میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایک نئی تکنیک کے ذریعے اسٹیکر تیار کیا گیا ہے اور اسے بنانے کے لیے مہنگے اور صاف ترین کمروں کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ ہی خصوصی آلات درکار ہوتے ہیں اور یہ طریقہ تھری ڈی پرنٹنگ کی طرح ہے جس میں الیکٹرانک سرکٹ براہِ راست کسی ٹیپ یا چپکنے والے مادے پر چھاپے جاسکتے ہیں۔ اس طرح بڑی تعداد میں یہ ٹیٹو تیار کیے جاسکتے ہیں جس سے صحت کی صنعت میں ایک انقلاب آجائے گا اور انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوگا۔